Skip to main content
News

فیصل آباد آئی ٹی پارکس کے قیام کے ایک قد م اور قریب

By December 2, 2020December 4th, 2020No Comments
مسٹر اکبر، سینئر منیجر انفراسٹرکچر، پاکستان سافٹ ویئر ایکسپورٹ بورڈ (پی ایس ای بی) وزارت انفارمیشن ٹیکنا لوجی نے فیصل آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صد ر انجینئر احتشام جاویدسے 02 دسمبر 2020 کو ملاقات کی۔ نمایئندہ پی ایس ای بی فیصل آباد شہر میں سافٹ ویئر انڈسٹری اور آئی ٹی کمپنیوں کے لئے دستیاب انفراسٹرکچر کا مطالعہ کرنے کے لئے فیصل آباد شہر کے دورے پر تھے۔
پی ایس ای بی کے نمائندے، مسٹر اکبر نے بتایا کہ پی ایس ای بی پہلے ہی اسلام آباد، لاہور، راولپنڈی اور کراچی میں 14 سافٹ ویئر ٹیکنالوجی پارکس چلا رہا ہے اور اگلے مرحلے میں پاکستان کے دوسرے درجے کے شہروں فیصل آباد، ملتان، سیالکوٹ وغیرہ میں 40 آئی ٹی پارکس قائم کرنے کا خواہاں ہے۔
انجینئر احتشام جاوید کے ساتھ ممبر ایگزیکٹو کمیٹی، انجینئر۔ بابر شہزاد، سابق صدور انجینئر۔ رضوان اشرف، جناب مزمل سلطان، کاشف ضیا اور چیئرمین پاسبان آئی ٹی گروپ میجر (ر) شاہنواز الحسن نے فیصل آباد شہر میں آئی ٹی پارکس کے قیام میں وزارت آئی ٹی اور پی ایس ای بی کی دلچسپی کو سراہا اور آئی ٹی انڈسٹری کی حمایت کے لئے پلیٹ فارم کی حیثیت سے ایف سی سی آئی کی کاوشوں کے بارے میں بھی تبادلہ خیال کیا۔ اور گورنمنٹ باڈیوں کے اشتراک سے فیصل آباد میں آئی ٹی پارک کے قیام کے سلسلے میں اپنی جدوجہد کے طویل سفر کے بارے میں آگاہ کیا۔ معزز صدر ایف سی سی آئی نے پی ایس ای بی کے نمائندے کو ایف سی سی آئی کمپلیکس میں ٹیکنو پارک کے قیام کے لئے وقف کردہ جگہ کے بارے میں بتایا جس کا افتتاح 09 ستمبر 2020 کو چیئرمین ستارہ گروپ کے میاں محمد ادریس نے کیا تھا۔ انہوں نے فیصل آباد میں آئی ٹی پارکس کے قیام کے لئے بزنس کمیونٹی اور فیصل آباد چیمبر آف کامرس کی جانب سے ایم او آئی ٹی اور پی ایس ای بی کو مکمل تعاون فراہم کیا۔
صدر ایف سی سی آئی نے انجینئر بابر شہزاد، شاہد اسلم اور ڈیجیٹل فیصل آباد کی ٹیم کی تعریف کی اوراس دورے اور میٹنگ کے انعقاد کے لئے سراہا۔ ویب سو ل یوکے کے سی ای او مسٹر فرحان باری اور سی ای او کنیکٹ وینچرز و ڈیجیٹل فیصل آباد مسٹر محمد بلال بھی ایف سی سی آئی کے معززین کے ساتھ ملاقات کے لئے پی ایس ای بی کے نمائندے کے ہمراہ تھے۔
آئی ٹی پارکس کے قیام سے نہ صرف فیصل آباد میں مقیم آئی ٹی کمپنیوں کے لئے مزید مواقع پیدا ہوں گے بلکہ بین الاقوامی سطح پر مقامی آئی ٹی انڈسٹری پر بہتر اعتماد پیدا کرنے میں بھی مدد ملے گی اور روزگار کے مواقع پیدا ہونے کے علاوہ معاشی نمو بھی ہوگی۔